You can use this search to find anything in the Quran in Arabic, Urdu, or English.To search Hadith, use the toggle button below to switch modes.
✍️ الإمام أبو عيسى محمد بن عيسى الترمذي
📄 ابواب کی تعداد: 340
📘 احادیث کی کل تعداد: 34,373
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ أَبِي غَالِبٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَلَى جَنَازَةِ رَجُلٍ فَقَامَ حِيَالَ رَأْسِهِ ثُمَّ جَاءُوا بِجَنَازَةِ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالُوا يَا أَبَا حَمْزَةَ صَلِّ عَلَيْهَا فَقَامَ حِيَالَ وَسَطِ السَّرِيرِ فَقَالَ لَهُ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ هَكَذَا رَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْجَنَازَةِ مُقَامَكَ مِنْهَا وَمِنْ الرَّجُلِ مُقَامَكَ مِنْهُ قَالَ نَعَمْ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ احْفَظُوا وَفِي الْبَاب عَنْ سَمُرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ هَمَّامٍ مِثْلَ هَذَا وَرَوَى وَكِيعٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هَمَّامٍ فَوَهِمَ فِيهِ فَقَالَ عَنْ غَالِبٍ عَنْ أَنَسٍ وَالصَّحِيحُ عَنْ أَبِي غَالِبٍ وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ أَبِي غَالِبٍ مِثْلَ رِوَايَةِ هَمَّامٍ وَاخْتَلَفُوا فِي اسْمِ أَبِي غَالِبٍ هَذَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ يُقَالُ اسْمُهُ نَافِعٌ وَيُقَالُ رَافِعٌ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ
Abu Ghalib narrated: I prayed for the funeral of a man with Anas bin Malik, so he stood parallel to his head. Then they came with the body of a woman from the Quraish. They said: 'O Abu Hamzah perform the prayer for her.' So he stood parallel to her waist. Al-Ala bin Ziyad said to him: 'Is this how you saw the Messenger of Allah standing in the place for the funeral as you did for her, and for a place that you stood for the man?' He said: 'Yes.' When he was finished he said: 'Remember (this).'
ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک کے ساتھ ایک آدمی کی صلاۃِ جنازہ پڑھی تو وہ اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے۔ پھرلوگ قریش کی ایک عورت کاجنازہ لے کرآئے اورکہا: ابوحمزہ! اس کی بھی صلاۃِجنازہ پڑھادیجئے، تو وہ چارپائی کے بیچ میں یعنی عورت کی کمرکے سامنے کھڑے ہوئے، تو ان سے علاء بن زیاد نے پوچھا: آپ نے نبی اکرمﷺ کوعورت اورمرد کے جنازے میں اسی طرح کھڑے ہوتے دیکھاہے۔ جیسے آپ کھڑے ہوئے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں ۱؎ ۔اورجب جنازہ سے فارغ ہوئے توکہا: اس طریقہ کو یادکرلو۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی یہ حدیث حسن ہے،۲- اورکئی لوگوں نے بھی ہمام سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ وکیع نے بھی یہ حدیث ہمام سے روایت کی ہے، لیکن انہیں وہم ہوا ہے۔ انہوں نے عن غالب عن أنس کہاہے اورصحیح عن ابی غالب ہے ،عبدالوارث بن سعید اوردیگرکئی لوگوں نے ابوغالب سے روایت کی ہے جیسے ہمام کی روایت ہے،۳- اس باب میں سمرہ سے بھی روایت ہے،۴- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں ۔ اوریہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کابھی قول ہے۔