You can use this search to find anything in the Quran in Arabic, Urdu, or English.To search Hadith, use the toggle button below to switch modes.
✍️ الإمام أبو داود سليمان بن الأشعث السجستاني
📄 ابواب کی تعداد: 340
📘 احادیث کی کل تعداد: 34,373
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ أَخْبَرَنِي أَبِي حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَا يُخَالِطُهُ شَيْءٌ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَطُفْنَا وَسَعَيْنَا ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُحِلَّ وَقَالَ لَوْلَا هَدْيِي لَحَلَلْتُ ثُمَّ قَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مُتْعَتَنَا هَذِهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ هِيَ لِلْأَبَدِ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا فَلَمْ أَحْفَظْهُ حَتَّى لَقِيتُ ابْنَ جُرَيْجٍ فَأَثْبَتَهُ لِي
Jabir bin Abdullah said “We raised our voices in talbiyah along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم exclusively for Hajj, not combining anything with it. When we came to Makkah four days of Dhu al Hijjah had already passed. We the circumambulated (the Kaabah) and ran between Al Safa’ and Al Marwah. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then commanded us to put off ihram. He said if I had not brought the sacrificial animals, I would have taken off Ihram. Suraqah bin Malik then stood up and said Messenger of Allah, what do you think, have you provided this facility to us for this year alone or forever? The Messenger of Allah said No, this forever and forever. Al Awza’l said I heard Ata bin Abi Rabah narrating this tradition, but I did not memorize it till I met Ibn Juraij who confirmed it for me.
سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خالص حج کا احرام باندھا ۔ اس میں کسی چیز کا اختلاط نہ تھا ۔ پھر ذوالحجہ کی چار راتیں گزر جانے کے بعد ہم مکہ پہنچے ۔ ہم نے طواف اور سعی کی ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حلال ہونے کا حکم دے دیا اور فرمایا ” اگر میرے ساتھ قربانی نہ ہوتی تو میں بھی حلال ہو جاتا ۔ “ پھر سیدنا سراقہ بن مالک ؓ کھڑے ہوئے اور پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ہمارا یہ تمتع ( حج کے ساتھ عمرہ کرنا ) اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے ۔ “ اوزاعی کہتے ہیں کہ میں نے عطاء بن ابی رباح کو یہ حدیث بیان کرتے سنا مگر میں یاد نہ رکھ سکا حتیٰ کہ ابن جریج سے ملا تو انہوں نے مجھے یاد کرائی ۔